وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں چرس سے دوا بنانے کی فیکٹری کھولی جائے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں شہریار آفریدی کو لوگوں سے پشتو زبان میں خطاب کرتے دیکھا گیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ 'حکومت، وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر ایک فیکٹری بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس میں چرس سے دوا تیار کی جائے گی، ہم ہر سال ہیروئن، چرس اور افیون بڑی مقدار میں پکڑتے ہیں اور پھر اسے جلاتے ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ 'دیگر ممالک اس سے ادویات تیار کرتے ہیں تو اس فیکٹری کا عمران خان ارادہ رکھتے ہیں جس پر کام جاری ہے، ہم اللہ کے فضل سے اس فیکٹری کو وادی تیراہ میں لگائیں گے۔
'سیاسی مخالفین کے پاس جھوٹ بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں'
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیر مملکت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گمراہ کن تبصروں کے ساتھ وائرل ہے، میں کوہاٹ میں اپنے قبائلی عوام کو بتا رہا تھا کہ حکومت تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں نامیاتی (organic) دوائیں بنانے کے کارخانے لگائے گی۔'
This video is viral on social media with misleading comments by opponents. I was telling my constituents that Govt plans to develop factory in Tribal areas to develop organic medicines through seized drugs 1/2
667 people are talking about this
ان کا کہنا تھا کہ 'مزید یہ کہ ہیمپ آئل اور سی بی ڈی آئل کی فیکٹریاں لگائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگار ملے اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔'
شہریار آفریدی نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'لگتا ہے سیاسی مخالفین کے میڈیا سیل کے پاس اب جھوٹ بیچنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔'
Moreover, hemp & CBD oil would also be produced so as the youth of tribal districts can get employment & help boost our exports.India,Aust,NZL & other nations r already earning billions evry year from such exports.Again proved fact that opponents hv nothing so projecting lies 2/2
146 people are talking about this
وزیر مملکت کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد جہاں ان پر تنقید کی جارہی ہے تو وہیں ان کا مذاق بھی اڑایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وہ شہریار آفریدی تنقید کی زد میں آئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
لیگی رہنما کی گرفتاری اور عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران وزیر مملکت نے کئی بار ان کے خلاف ثبوت ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے وہ یہ جملہ استعمال کرتے رہے کہ 'جان اللہ کو دینی ہے۔'
تاہم وزیر مملکت اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) رانا ثنااللہ کے خلاف عدالت میں سماعت کے کئی ماہ بعد بھی کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہ کر سکے۔
24 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔


0 Comments