ملی بوبی براؤن نے انتہائی کم عمری میں شوبز کیریئر کا آغاز کیا تھا، انہوں نے محض 12 سال کی عمر میں ’اسٹرینجر تھنگز‘ نامی امریکی ہارر ڈرامے سے بطور چائلڈ آرٹسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔
ملی بوبی براؤن کو شاندار اداکاری کی وجہ سے محض 13 سال کی عمر میں ’ایمی ایوارڈز‘ کے لیے نامزد بھی کیا گیا۔
اسی طرح وہ ٹائمز میگزین کی 100 بااثر اور مشہور شخصیات کی فہرست میں شامل ہوئیں۔
صرف ایک ہی ڈرامے میں کام کرنے کی وجہ سے ملی بوبی براؤن کو کافی شہرت حاصل ہوئی اور اب تک وہ اسی ڈرامے کے ہر سیزن میں دکھائی دیتی ہیں۔
اب اس ڈرامے کا چوتھا سیزن ریلیز کیا جائے گا اور اس میں بھی ان کا اہم کردار ہے۔
ڈرامے میں شاندار اداکاری کی وجہ سے امریکی و یورپی میڈیا میں ملی بوبی براؤن کی خبریں بھی شائع ہوتی رہیں تاہم اس دوران انہیں پرکشش لڑکی کے طور پر بھی دکھایا گیا۔
ملی بوبی براؤن نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ انتہائی کم عمری میں میڈیا کی جانب سے اپنی جسامت کے حوالے سے منفی رپورٹنگ کے باعث وہ ڈپریشن کا شکار بھی رہیں۔
انہوں نے لکھا کہ بعض اوقات اپنے جسم اور عریانیت سے متعلق خبریں پڑھ کر وہ انتہائی مایوس ہوجاتی تھیں اور ان خبروں کی وجہ سے انہیں ذہنی تکلیف بھی پہنچی تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
اداکارہ نے لکھا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ میڈیا نے ان کی جسامت اورعریانیت کے حوالے سے ایسے وقت میں خبریں دیں جب ان کی عمر 16 برس بھی نہیں ہوئی تھی۔
ملی بوبی براؤن نے مزید لکھا کہ میڈیا کی منفی رپورٹنگ کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اب وہ وقت گزر گیا۔
خیال رہے کہ ملی بوبی براؤن نے اگرچہ متعدد ڈراموں میں کام کیا ہے تاہم اب تک انہوں نے صرف ایک ہی فلم ’گوڈزیلا، کنگ آف دی مونسٹرز‘ میں کام کیا ہے۔
0 Comments